انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے فِن ٹیک انفراسٹرکچر لیڈر کے ساتھ حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کا اعلان کردیا: نیئم

دبئی، متحدہ عرب امارات، 30 ستمبر، 2021/پی آر نیوزوائر-ایشیانیٹ/– انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے آج اعلان کیا کہ اس نے ایک معروف عالمی فنانشل ٹیکنالوجی (فِن ٹیک) انفراسٹرکچر کمپنی، نیئم (https://www.nium.com/) کے ساتھ کثیر سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کرلی ہے۔ نیئم بینکوں اور کاروباری اداروں کو ایک اے پی آئی (API) کے ذریعے فنٹیک انفراسٹرکچر سروسز تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ اس شراکت داری میں 2023 کے آخر تک تین عالمی آئی سی سی ایونٹس میں شمولیت اور انضمام شامل ہیں جیسے متحدہ عرب امارات اور عمان میں آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ، 2023 میں آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل اور آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ 2023 جس کی میزبانی بھارت میں ہونا ہے۔

آئی سی سی کے آفیشل پارٹنر کی حیثیت سے، نیئم براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی ایسوسی ایشن کو فروغ دے گا، نیز آئی سی سی کے ان ایونٹس میں منفرد فین اور کلائنٹ ایکٹیویشنز کو انجام دے گا۔ یہ شراکت داری نیئم کو کرکٹ سے محبت کرنے والی عالمی کاروباری فین بیس کو جدید مہمات میں مصروف کرنے میں مدد دے گی جو کہ رقوم کی عالمی نقل و حرکت کو تیز، محفوظ اور آسان بنانے میں فن ٹیک کی صلاحیت کو نمایاں کرتی ہے۔https://mma.prnewswire.com/media/1639444/ICC_Nium_partnership.jpg

ایسوسی ایشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئی سی سی کے چیف کمرشل آفیسر انوراگ داہیا نے کہا، “ہم نیئم کے ساتھ اپنی باضابطہ شراکت داری پر بہت پرجوش ہیں، جس کا آغاز یہاں متحدہ عرب امارات اور عمان میں ہونے والے انتہائی متوقع آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے ساتھ ہورہا ہے ۔ یہ تعلق نیئم کو کرکٹ کے پس منظر کو استعمال کرنے کا موقع دے گا تاکہ وہ دنیا بھر میں اپنے مؤکلین اور وسیع امکانات کے لیے فن ٹیک جدّت طرازی میں اپنے قائدانہ  کردار کو آگے بڑھا سکے۔ ہم مستقبل میں نیئم کے ساتھ ضروری مہمات کی تیاری کے لئے پُرامید ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ مہمات وقت کے ساتھ ہمارے کھیل پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کریں گی کہ ہم شائقین کے ساتھ اپنے تعلقات کیسے استوار رکھتے ہیں۔ ”

اس اسٹریٹجک شراکت داری پر بات کرتے ہوئے نیئم کے شریک بانی اور سی ای او، پراجیت نانو نے کہا، ” ہم آئی سی سی کے ساتھ ایک منفرد B2B تجارتی شراکت دار کے طور پر شمولیت کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ کرکٹ کی کشش مملکتوں، کرنسیوں اور ثقافتوں سے بالا تر ہے ۔ نیئم برسوں سے، فن ٹیک کا پس پردہ انفراسٹرکچر رہا ہے جو دنیا کی بہت سی مشہور برانڈز کو قوت فراہم کرتا ہے۔ یہ شراکت داری ہمیں اپنی فن ٹیک ٹیکنالوجی کو عالمی اسٹیج پر دکھانے اور کرکٹ سے محبت کرنے والے ماہرین فَن کو نئے پروگراموں کی تیاری میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے تاکہ کھیل کے عالمی تجربے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

آئی سی سی کے بارے میں:

آئی سی سی کرکٹ کا عالمی انتظامی ادارہ ہے۔ 105 ممبران کی نمائندگی میں، آئی سی سی کھیل کا انصرام اور انتظام کرتی ہے اور بڑے بین الاقوامی ٹورنامنٹس کے انعقاد کی ذمہ دار ہے جن میں آئی سی سی مینز ورلڈ کپ اور ویمنز ورلڈ کپ اور آئی سی سی مینز اور ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ کوالیفائنگ ایونٹس شامل ہیں۔ آئی سی سی ذمہ دارہے آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کا جو بین الاقوامی کرکٹ، کھیل کے حالات، بولنگ کے جائزے اور آئی سی سی کے دیگر قواعد و ضوابط کے پیشہ ورانہ معیارات طے کرتا ہے۔ کھیل کے قوانین ایم سی سی کی سرپرستی میں رہتے ہیں۔

آئی سی سی ان امپائروں اور ریفریوں کا بھی تقرر کرتا ہے جو تمام منظور شدہ ٹیسٹ میچز، ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ اینٹی کرپشن یونٹ کی وساطت سے یہ کرپشن اور میچ فکسنگ کے خلاف کارروائی کو مربوط کرتا ہے۔

آئی سی سی ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایسوسی ایٹ ممبروں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانے، بہتر کرکٹ سسٹم بنانے، زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کرکٹ کھیلنے اور کھیل کی نشونماکے لیے کام کرتا ہے۔

نیئم کے بارے میں:

نیوم ایک مضبوطی سے قائم فن ٹیک کمپنی ہے جو بینکوں، ادائیگی فراہم کرنے والوں، ٹریول کمپنیوں اور کسی بھی سائز کے کاروبار کو ایک اے پی آئی کے ذریعے ادائیگی کی عالمی خدمات تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا ماڈیولر پلیٹ فارم بلا تعطل تجارت کو فروغ دیتا ہے، دنیا بھر میں کاروباری اداروں کو ادائیگی کرنے اور ادائیگی وصول کرنے کے ساتھ منافع ادائیگی، منافع وصولی، کارڈ کے اجرا، اور بینکنگ-بطور-سروس کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایک بار نیئم پلیٹ فارم سے منسلک ہونے کے بعد، کاروبار 100 سے زیادہ کرنسیوں میں 190 سے زائد ممالک کو (جن میں سے 85 کو ریئل ٹائم میں)  ادائیگی کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ فنڈز جنوب مشرقی ایشیا، برطانیہ، ہانگ کانگ، سنگاپور، آسٹریلیا، انڈیا اور امریکہ سمیت 33 مارکیٹوں میں وصول کیے جا سکتے ہیں۔ نیئم کا بڑھتا ہوا کارڈ جاری کرنے کا کاروبار پہلے ہی یورپ (SEPA)، برطانیہ، آسٹریلیا اور سنگاپور سمیت 32 ممالک میں دستیاب ہے۔ نئیم کا اصل، اس کا لائسنس انفراسٹرکچر ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں میں تعمیر ہوا ہے۔ نئیم وسیع تر لائسنس پورٹ فولیو کا مالک ہے، جو دنیا کی 11 عملداریوں کا احاطہ کرتا ہے، اور جغرافیہ سے قطع نظر، بنا رکاوٹ عالمی ادائیگیوں اور تیز رفتار انضمام کو قابل عمل بناتا ہے۔

مزید معلومات کے لئے، ملاحظہ کیجئے؛ &#8239: https://www.nium.com

تصویر: https://mma.prnewswire.com/media/1639444/ICC_Nium_partnership.jpg

سورس: نیئم (NIUM)

The 14th China (Dongying) International Petroleum and Petrochemical Equipment & Technology Exhibition comes to a successful conclusion

DONGYING, China, Sept. 30, 2021 /Xinhua-AsiaNet/– The 3-day 14th China (Dongying) International Petroleum and Petrochemical Equipment & Technology Exhibition held in Dongying, Shandong province came to a successful conclusion on September 29.

The 14th China (Dongying) International Petroleum and Petrochemical Equipment & Technology Exhibition kicked off on September 27.

The Information Office of the People’s Government of Dongying explained that the theme of this exhibition was A Connected World Driven by Innovation.

An exhibitor introducing products in the live streaming room at the 14th China (Dongying) International Petroleum and Petrochemical Equipment & Technology Exhibition

Reached agreements totaled 4.16 billion yuan and 262 foreign and 297 domestic trade contracts (intention agreements) were signed during the event. More than1,300 exhibitors were attracted by this immersive cloud exhibition, demonstrating in excess of 17,000 products covering 18 categories. These included oil drilling equipment, exploration equipment, and collection and transmission equipment. The total number of visits was over 270,000.

An assembly worker busy catching up with orders in Kerui High-end Petroleum Equipment Industrial Park, Dongying, Shandong

With the new and comprehensive online cloud exhibition platform, full use was made of cloud display, cloud diversion, cloud interaction, and cloud negotiation, taking the exhibition level and the standard of service to new heights. The exhibition featured dedicated display areas to showcase the growing trends and the latest developments in digital oil exploration, equipment manufacturing, and petroleum and petrochemical industries in a cutting edge, three-dimensional manner of presentation. 234 new products and 181 new technologies were debuted, and comprehensive oil field development service technologies, such as oil and gas exploration and integrated drilling packages, took center stage.

A technician processing orders in a workshop of Shandong Yonglijinggong Petroleum Equipment Co., Ltd.

Over the past 14 years, the annual China (Dongying) International Petroleum and Petrochemical Equipment & Technology Exhibition has attracted more than 7,400 exhibitors and 970,000-plus visitors. It has facilitated the execution of 1,796 foreign trade contracts and agreements, encompassing in excess of 70 countries and regions, and has thereby become a driving force in Dongying’s industry transformation and development. It is a growth driver in the petroleum equipment industry base, a display window for publicity, and a new development bellwether of the global petroleum equipment industry.

As is well known, Dongying is at the center of the Yellow River Delta, a pivotal city for oil in China. Dongying’s petroleum equipment industry, its main industry, has a virtually complete industry chain that brings together research and development, manufacturing, service, and domestic and international trade. The city is now the petroleum equipment manufacturing base of China.

Source: Information Office of the People’s Government of Dongying

Image Attachments Links:

Link: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=402659
Link: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=402665
Link: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=402666
Link: http://asianetnews.net/view-attachment?attach-id=402667

Despite Heightening Investor Pressure, Few Companies Publicly Report on Sustainability, Sphera’s New Survey Finds

New data from Sphera reveals that, despite promises to the contrary, companies struggle with implementing and disclosing progress on their sustainability efforts

CHICAGO, Sept. 30, 2021 (GLOBE NEWSWIRE) — Though pressure is growing from all corners—from investors, to governments, to boards of directors—companies worldwide struggle to report progress on their Environmental, Social and Governance (ESG) goals. Indeed, just 38% of businesses publicly communicate their sustainability performance, according to a new survey from Sphera®, a leading global provider of ESG performance and risk management software, data and consulting services.

It’s not just a matter of disclosing progress on their objectives, however; companies are also behind the curve when it comes to clearly setting their ESG goals in the first place. Less than one-third (29%) of the respondents said they have set and communicated their sustainability targets, and even fewer—16%—have set emissions targets in accordance with the Science Based Targets initiative (SBTi) framework.

This marked lack of ESG transparency highlights the persistently wide chasm between ESG promises and action in the private sector. In the absence of significant, enforceable regulations worldwide, companies have largely been left to voluntarily make commitments, but with no meaningful mechanisms to either measure their progress or hold themselves accountable to them. About half (51%) of companies surveyed affirm that their senior management has made sustainability commitments, but only 21% say they have a clear roadmap to implementation, and just 26% say they have fully integrated sustainability into their business strategy.

“It’s easy to ‘talk the talk’ when it comes to corporate ESG initiatives, but much harder to ‘walk the walk’,” says Paul Marushka, Sphera’s CEO. “Businesses have largely been left to their own devices to establish and measure their sustainability performance, leading to a constellation of voluntary frameworks that ultimately disincentivize meaningful action. But with the Intergovernmental Panel on Climate Change’s recent report providing its strongest warning yet – indicating that half-measures will no longer cut it – and the upcoming COP26 conference promising to hold the business community to account, organizations need to start making good on their promises and show tangible progress.”

These findings are from Sphera’s Sustainability Survey 2021, a survey of 218 global business leaders evaluating their sustainability metrics, measurement and progress.

Additional findings from the survey include:

Scope 3 is missing from the menu. Though reducing emissions across the value chain is essential to meeting decarbonization targets and—for those businesses who have committed to them—achieving net zero emissions, very few companies have accounted for Scope 3 emissions in their sustainability plans. Only 13% of businesses surveyed said they have identified all relevant Scope 3 categories and completed a corresponding hotspot analysis; 29% say they consider the entire value chain when calculating their corporate emissions baseline or carbon footprint.

“Scope 3 emissions can make up the vast majority of a company’s overall carbon footprint,” Marushka added, “which means any sound sustainability strategy must involve an assessment of the supply chain and a commitment to working with suppliers who are also taking measurable steps to reduce their emissions. The end result ultimately creates a multiplier effect for both companies’ sustainability efforts.”

Poor data quality can stymie even the best efforts. Only a minority of respondents (16%) use data from established commercial databases to quantify their corporate carbon footprint; another 14% say they use high-quality, industry-based data for baseline assessment at the product level. In practice, this means many more organizations are using suboptimal datasets, such as spend-based, input-output databases, to measure their emissions. These types of top-down, nonspecific data sources can lead to inaccurate assessments, further exacerbating the gap between sustainability promises and outcomes.

The middle market struggles the most. Perhaps unsurprisingly, large organizations with more than $1 billion in revenue are more likely to be rated as optimized (34%) in terms of sustainability maturity.1 At the same time, 39% of small businesses with less than $100 million in revenue are considered optimized. Midsize businesses trail both, with an optimization rate of just 30%. In fact, midsize businesses are more likely than their larger or smaller counterparts to not exceed basic compliance requirements (25% vs.13% for smaller organizations and 6% for larger organizations).

About the Sustainability Maturity Survey 2021
Sphera partnered with the University of Esslingen in Germany to design and field a survey of companies throughout Europe, North America and Asia-Pacific. Respondents represented businesses in a wide range of industries, including automotive, construction, education, health care, oil and gas, manufacturing and technology. The survey was conducted between April 7 and May 3.

About Sphera
Sphera creates a safer, more sustainable and productive world. We are a leading global provider of Environmental, Social and Governance (ESG) performance and risk management software, data and consulting services with a focus on Environment, Health, Safety & Sustainability (EHS&S), Operational Risk Management and Product Stewardship.

Press Contact
Kylie Souder
kylie.souder@aspectusgroup.com
+1 513-304-5776

__________________
1
According to Sphera’s Sustainability Maturity rubric, an “optimized” business leverages ESG software and data resources to go above and beyond meeting compliance requirements to help find efficiencies, increase productivity and innovation, reduce costs and mitigate risks. A “leader” is at the head of the competitive pack and is shaping the future of its sector through its sustainability initiatives.

The International Cricket Council Announces Strategic Partnership With FinTech Infrastructure Leader: Nium

DUBAI, UAE, Sept. 30, 2021 /PRNewswire-AsiaNet/– The International Cricket Council (ICC) announced today that it has entered a multi-year strategic partnership with Nium (https://www.nium.com/), a leading global financial technology (FinTech) infrastructure company. Nium provides banks and businesses with access to a suite of fintech infrastructure services through one API. This partnership includes involvement and integration in three global ICC events through to the end of 2023 such as the ICC Men’s T20 World Cup in the United Arab Emirates and Oman, the ICC World Test Championship Final in 2023 and the ICC Men’s Cricket World Cup 2023 to be hosted in India.

As an official partner of the ICC, Nium will promote its association across broadcast and digital platforms, as well as execute unique fan and client activations at these ICC events. This partnership will enable Nium to engage the global cricket-loving business fanbase with innovative campaigns that highlight the power of fintech in helping make global money movement faster, safer, and easier.https://mma.prnewswire.com/media/1639444/ICC_Nium_partnership.jpg

Speaking on the association, Anurag Dahiya, Chief Commercial Officer, ICC, said, “We are excited to have Nium join us as an official partner, beginning with the highly anticipated ICC Men’s T20 World Cup to be held here in the UAE & Oman. This relationship will allow Nium to use the backdrop of cricket to promote its role as a pioneer in fintech innovation to its clients and prospects, worldwide. We look forward to working with Nium on developing bespoke campaigns that we believe in time will have a positive impact on our game and how we engage with fans.”

Speaking on this strategic partnership, Prajit Nanu, Co-Founder and CEO, Nium said, “We are beyond excited to join forces with the ICC as a unique B2B commercial partner. Cricket’s appeal transcends countries, currencies, and cultures. For years, Nium has been the behind-the-scenes fintech infrastructure powering some of the most recognized brands in the world. This partnership allows us to showcase our fintech innovations on a global stage, and to engage cricket-loving technologists in the development of new programs to advance the global game experience.”

ABOUT THE ICC

The ICC is the global governing body for cricket. Representing 105 members, the ICC governs and administrates the game and is responsible for the staging of major international tournaments including the ICC Men’s World Cup and Women’s World Cup and the ICC Men’s and Women’s T20 World Cups as well as all associated qualifying events. The ICC presides over the ICC Code of Conduct which sets the professional standards of discipline for international cricket, playing conditions, bowling reviews and other ICC regulations. The Laws of the game remain under the auspices of the MCC.

The ICC also appoints the umpires and referees that officiate at all sanctioned Test matches, One Day International and Twenty20 Internationals.  Through the Anti-Corruption Unit it coordinates action against corruption and match fixing.

The ICC Development department works with Associate Members to improve the quality of international cricket, build better cricket systems, get more people playing cricket and grow the game.

ABOUT NIUM

Nium is a leading embedded fintech company that provides banks, payment providers, travel companies, and businesses of any size with access to global payment services via one API. Its modular platform powers frictionless commerce, helping businesses pay and get paid across the globe with services for pay-outs, pay-ins, card issuance, and banking-as-a-service. Once connected to the Nium platform, businesses have the ability to pay out in more than 100 currencies to over 190 countries – 85 of which in real time. Funds can be received in 33 markets, including Southeast Asia, UK, Hong Kong, Singapore, Australia, India, and the US. Nium’s growing card issuance business is already available in 32 countries, including Europe (SEPA), the UK, Australia and Singapore. Core to Nium is its license infrastructure, built over time in some of the fastest growing economies. Nium owns the broadest license portfolio, covering 11 of the world’s jurisdictions, enabling seamless global payments and rapid integration, regardless of geography.

For more information, visit: https://www.nium.com

Photo: https://mma.prnewswire.com/media/1639444/ICC_Nium_partnership.jpg

Source: NIUM

‫13ویں چائنا انٹرنیشنل ایویشن اینڈ ایرو اسپیس ایگزبیشن ژوہائی میں شروع ہوگیا،جوشہر کی آسان رسائی دینے کو ظاہر کرتاہے۔

ژوہائی،چین،30ستمبر،2021 /ژن ہوا-ایشیا نیٹ/ — 28ستمبر کے دن،13ویں چائنا انٹرنیشنل ایویشن اینڈ ایرو اسپیس ایگزبیشن یا ایئر شو چائنا کا جنوبی چین کے صوبہ گوانگڈانگ کے شہر ژوہائی میں باقاعدہ طور پرآغاز ہوگیا۔13ویں چائنا انٹرنیشنل ایویشن اینڈ ایرو اسپیس ایگزبیشن کی انتظامی کمیٹی کے مطابق،روں سال،40کے قریب ممالک اور خطوں سے 700 کمپنیوں نے اس نمائش میں شرکت کی،اور کئی نئی مصنوعات،ٹیکنالوجیاں،سہولیات اور کامیابیاں چین اور دنیا میں پہلی مرتبہ نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گی جو دنیا کے جدید معیار نمائندگی کریں گی۔

سول ایویشن کی صنعت،دوہرے استعمال کی ٹیکنالوجی،ایویشن کی تیاری کے مراکز،ایم آر او،خود کار نظام،سمندری دفاعی نظام اور دیگر موضوعاتی نمائشن اس شو میں شامل ہوں گی،جو زمین،سمندر،ہوا،خلا، اور الیکٹرانگ کے شعبوں پر  مشتمل ہوں گی۔

یہ زبردست ہوائی نمائش اور جدید آوزاروں کی شاندار ترتیب چین کی ایرواسپیس صنعت کی خود اعتمادی اور کشادگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس تقریب کا بڑھتا ہوا دائرہ کار اور بین الاقوامی اثر ورسوخ ا کمپنیوں کو ایشیا-پیسفک اور چینی مارکیٹ میں داخلے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔متظمین کے مطابق، رواں سال نمائش کنندگا ن اور نمائش کا علاقہ اندازے سے بڑھ گئے۔پویلین کی تعداد 8سے بڑھ کر 11ہوئی،جس  میں دنیا بھر کے صنعت کی مشہور کمپنیاں حصہ لے رہی ہیں۔بوئنگ کا نمائش کا علاقہ 11%تک بڑھا اور ائیر بس کا پچھلے سال کی بہ نسبت 65%تک بڑھ گیا۔

سرکردہ کمپنیاں مارکیٹ کے رجحان میں’’بادبہار‘‘سی ہیں،اور معروف ایویشن کمپنیاں ژوہائی آنے کا انتخاب کرتی ہیں،جہاں پر ائیر شو منعقد کیا گیا،جس کے ذریعے کاروبارکو ترقی  دے کر شہر کو ایرو اسپیس صنعت میں ایک ’’نیا ستارہ‘‘بنایاجائے۔

2003سے،جرمنی کی سب سے بڑی انجن بنانے والی کمپنی ایم ٹی یو ایرو انجن اور چائنا سدرن ائیر لائن کمپنی  لمیٹیڈ نے ژوہائی فری ٹریڈ زون میں انجن کی دیکھ بھال  کا ایک مشترکہ منصوبہ بنایا۔اب ،کمپنی نے توسیع کا تیسرا مرحلہ مکمل کیا اور ضلع جنوان میں ایک برانچ پلانٹ بنایا۔

ایم ٹی یو مینٹننس کمپنی لمیٹیڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو جاپ بیجر کے مطابق،نئے پلانٹ میں سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کمپنی کے ایشیائی مارکیٹ اور نیرو-باڈی انجن کی سہولیات کی بڑھتی مانگ کی بہتری اور ترقی کے لیے خوداعتمادی کا تسلسل ہے ۔

ان کا کہناتھا’’ہمیں خوشی ہے کہ ائیر شو میں ہمارے بہت سارے شراکت دار اور صارفین ہیں۔یہ ہمیں کم وقت میں بہت سارے لوگوں کے ساتھ ملنے کا ایک بہت بڑا موقع فراہم کرتاہے۔‘‘

شہرکی مارکیٹ  کے زبردست اندازوں اور پیش نظر کو دیکھتے ہوئے،ایویشن صنعت کے مختلف اقسام،جیسے زراعتی یو اے وی،ایویشن کی نئی اشیائ،انجن کی دیکھ بھال کی سہولیات،ایویشن کی تربیت اور تحقیقی تجربات،اچھی طرح ژوہائی میں ترقی کررہے ہیں۔اعدادوشما رکے مطابق 2020 میں،صرف ضلع جنوان میں ایویشن صنعت کی پیداوار ی ماحصل 58.6%تک بڑھی اور ژوہائی میں ایویشن صنعت بڑھتی جارہی ہے۔

صنعتی ترقی شہری رسائی کی بلند سطح کی جانب اشارہ کرتی ہے۔چین میں پہلے چار خاص معاشی زون میں سے ایک،ژوہائی گزشتہ 40 سال سےاپنی تیز رفتار ترقی کے ذریعے بین الاقوامی تبادلے اور تعاون میں پہلی صف میں کھڑا  رہاہے۔ائیر شو چائنا کے برانڈ کی بڑھتی ہوئی پہچان کی ژوہائی کی آسان رسائی کے  برتاوٗ کے ساتھ ایک مضبوط تعلق ہے۔

اس وقت ،چینی حکومت ہینگ کیون میں گوانگڈانگ-مکاوٗ ان-ڈیپتھ زون کی تعمیر کو فروغ دے رہی ہے،ژوہائی، گہری اصلاحات کے لیے نئی راہوں اور نئے طریقہ کار دریافت کرنے کاقصد رکھتاہے اور گوانگڈانگ-ہانگ کانگ-مکاوٗ گریٹر بے ایریا اور یہاں تک کہ چین کے لیے آسان رسائی دینے کا عزم رکھتاہے۔توقع کی جاتی ہے کہ ژوہائی آسان رسائی کے مواقع ایک نیا سلسلہ شروع کرے گا،اور اس بار یہ صرف ایر واسپیس صنعت کی توجہ حاصل کرنے تک محدود نہیں رہے گا۔ایک  آسان رسائی دینے والا اور موثر شہر،عالمی سرمایہ کاری کےلیے بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک اعلی شہر ابھر رہاہے۔

ذریعہ : 13ویں چائنا انٹرنیشنل ایویشن اینڈ ایرو اسپیس ایگزبیشن کی انتظامی کمیٹی

 

Blue economy plays vital role in stabilizing national economy: Zaidi

Minister for Maritime Affairs Ali Haider Zaidi has said that incumbent government has initiated Kamyab Mahigeer Programme and loans will be provided to fishermen for their progress.

Addressing a ceremony in connection with World Maritime Day in Karachi on Thursday, he said blue economy plays an important role in stabilizing national economy as many sectors are linked with it.

Ali Zaidi said that digital identification has been issued to Seafarers by NADRA.

Source: Radio Pakistan